Skip to content
بدھ , 14 اکتوبر , 2026ء
  • ہمارے بارے میں
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • حقوق انسانی
  • ادبستان
  • گراؤنڈ رپورٹ
  • ویڈیو
  • Support The Wire
ٹرینڈنگ
آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ دہلی ایس آئی آر: 2025 کے انتخابات میں جس  پولنگ بوتھ پر تھے 729 ووٹر، وہاں ڈرافٹ لسٹ میں بچا صرف ایک نام ’میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طالبعلم کو اس ملک میں اور کیا جھیلنا باقی رہ گیا ہے؟‘ دی وائر کے سدھارتھ وردراجن اور میکسیکو کی صحافی مارسیلا توراتی کو ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈ ایس آئی آر: آدھار کے بانی نندن نیلے کنی اور ان کے اہل خانہ کے نام ڈسکریپنسی لسٹ میں کشمیر: آئینی تغیرات، جمہوری تعطل اور پسپائی کی داستان

تازہ ترین

  • آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا
  • برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں
  • بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ
  • رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے
  • برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ
  • فیس بک
  • ٹوئٹر
  • یو ٹیوب
  • انسٹاگرام

سوئس بینک کے اکاؤنٹ ہولڈروں پر سختی بڑھی، تقریباً50 ہندوستانیوں کو دی جا رہی ہے نوٹس

شیئر کریں دی وائر اسٹاف 17/06/201917/06/2019

سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے مارچ سے اب تک کم سے کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں کو نوٹس جاری کر کےان کی اطلاع حکومت ہند کو دینے سے پہلے ان کو اس کے خلاف اپیل کا ایک آخری موقع دیا ہے۔

(فوٹو : رائٹرس)
(فوٹو : رائٹرس)

نئی دہلی: سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں غیراعلانیہ اکاؤنٹ رکھنے والے ہندوستانیوں کے خلاف دونوں ممالک کی حکومتوں نے شکنجہ کسنا شروع کر دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے افسر اس سلسلے میں کم سے کم 50 ہندوستانیوں کی بینک سے متعلق اطلاعات ہندوستانی افسروں کو سونپنے کی کارروائی  کر رہے  ہیں۔ایسے لوگوں میں زیادہ تر زمین-جائیداد، مالی خدمات، ٹکنالوجی، مواصلات، پینٹ، گھریلو آلات آرائش، کپڑا، انجینئرنگ کے سامان اور جواہرات و زیورات کے کاروبار سے جڑے کاروباری اور کمپنیاں شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ ڈمی کمپنیاں بھی ہو سکتی ہیں۔یہ جانکاری دونوں ممالک کے درمیان باہمی ایڈمنسٹریٹو مددکے پروسس میں شامل افسروں نے یہ جانکاری دی ہے۔

سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ٹیکس چوروں کی پناہ گاہ کے اپنے ملک کی امیج کو بدلنے کے لئے کچھ سالوں سے کئی اصلاحات کئے ہیں۔ وہ اس سے متعلق سمجھوتہ کے تحت مختلف ممالک کے ساتھ مشتبہ افراد کی  بینکنگ اطلاعات کو شیئر کرنے کی کارروائی  میں جڑ گئے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ نے حال میں کچھ ممالک کے ساتھ اطلاعات شیئر کرنے کے  عمل کوتیز کر دیا ہے۔پچھلے کچھ ہفتے کے دوران ہندوستان سے متعلق معاملات میں اطلاعات کے لین دین کے عمل میں زیادہ تیزی آئی ہے۔ ہندوستان میں بلیک منی کا معاملہ سیاسی طور پر حساس ہے۔سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے مارچ سے اب تک کم سے کم 50 ہندوستانی اکاؤنٹ ہولڈروں کو نوٹس جاری کرکے ان کی اطلاع حکومت ہند کو دینے سے پہلے ان کو اس کے خلاف اپیل کا ایک آخری موقع دیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ اس کے بینکوں میں اکاؤنٹ رکھنے والے گراہکوں کی پرائیویسی برقرار رکھنے کو لےکر ایک بڑے عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر جانا جاتا رہا ہے۔ لیکن محصول چوری کے معاملے میں عالمی سطح پر سمجھوتہ کے بعد پرائیویسی  کی یہ دیوار اب نہیں رہی۔ اکاؤنٹ ہولڈروں کی اطلاعات شیئر کرنے کو لےکر حکومت ہند کے ساتھ اس نے سمجھوتہ کیا ہے۔ دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے سمجھوتہ کئے گئے ہیں۔سوئٹزرلینڈ حکومت نے گزٹ کے ذریعے عام کی گئی جانکاریوں میں صارفین کا پورا نام نہ بتاکر صرف نام کے شروعاتی حرف بتائے ہیں۔ اس کے علاوہ صارف کی قومیت اور تاریخ پیدائش کا ذکر کیا گیا ہے۔ گزٹ کے مطابق، صرف 21 مئی کو 11 ہندوستانیوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔اس سے پہلے سوئٹزرلینڈ کے افسروں نے 28 مئی کو پوتلوری راجا موہن راؤ کے نام ایک عوامی نوٹس جاری کی تھی۔ ان کو اپیل کرنے کے لئے 10 دن کا وقت دیا گیا تھا۔

اس سے پہلے جن دو ہندوستانیوں کا پورا نام بتایا گیا تھا ان میں مئی 1949 میں پیدا ہوئے کرشن بھگوان رام چند اور ستمبر 1972 میں پیدا ہوئے کلپیش ہرشد کناریوالا شامل ہیں۔ حالانکہ، ان کے بارے میں دیگر معلومات کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔دیگر ناموں میں جن کے شروعاتی حرف بتائے گئے ہیں ان میں 24 نومبر 1944 کو پیدا ہوئے اے ایس بی کے، 9 جولائی 1944 کو پیدا ہوئے اے بی کے آئی، دو نومبر 1983 کو پیدا ہوئی محترمہ پی اے ایس، 22 نومبر 1973 کو پیدا ہوئی محترمہ آر اے ایس، 27 نومبر 1944 کو پیدا ہوئے اے پی ایس، 14 اگست 1949 کو پیدا ہوئی محترمہ اے ڈی ایس، 20 مئی 1935 کو پیدا ہوئے ایم ایل اے، 21 فروری 1968 کو پیدا ہوئے این ایم اے اور 27 جون 1973 کو پیدا ہوئے ایم ایم اے شامل ہیں۔ان نوٹس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ صارف یا ان کا کوئی مستند نمائندہ ضروری دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ 30 دنوں کے اندر اپیل کرنے کے لئے حاضر ہوں۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)

مزید پڑھیں

آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی…
بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے…
رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ…
Load/Hide Comments

تازہ ترین

  • آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا
  • برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں
  • بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ
  • رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے
  • برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ
  • فیس بک
  • ٹوئٹر
  • یو ٹیوب
  • انسٹاگرام
  • ہمارے بارے میں

Copyright © 2026, The Wire Urdu