خاص خبریں
آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی مسلسل حراست اور ان کے علاج کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ پینی وونگ کو خط لکھ کر کہا کہ ان کی تشویش خان کے سیاسی یا قانونی معاملوں کے بارے میں نہیں، بلکہ حراست میں کسی شخص کے ساتھ کیے جانے والے انسانی سلوک کے بارے میں ہے۔
تمام تضادات کے باوجود، نئی دہلی کی اس سمٹ میں حاصل ہونے والی ٹھوس سفارتی کامیابی کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گیارہ ایسے ممالک کو، جن کے تزویراتی مفادات ایک دوسرے سے یکسر متضاد اور متصادم ہیں، ایک جامع اور متفقہ اعلامیے پر رضامند کر لینا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ اس سے قطع نظر ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں موجودہ ہندوستانی حکومت خارجہ امور میں ٹھوس حکمت عملی کے بجائے سطحی نمائش اور سیاسی شعبدہ بازی پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔
گراؤنڈ رپورٹ
دنیا
ویڈیو
مزید خبریں
چینی صدر شی جن پنگ کے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان کے دورے سے قبل دہلی میں تبتی کمیونٹی نے چین کی تبت پالیسی اور انسانی حقوق کے ریکارڈ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے تبت پر چین کے قبضے، مذہبی آزادی اور ماحولیاتی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے برکس رہنماؤں سے اس معاملے پر آواز اٹھانے کی اپیل کی۔
دہلی میں ایس آئی آرکی ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد پایا گیا کہ لال قلعہ یمنا برج پولنگ بوتھ پر ایس آئی آر سے پہلے 729 ووٹر تھے، لیکن اب صرف ایک شخص کا نام ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ پولنگ بوتھ اس بات کی مثال ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ان غریب لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جو ایسی عارضی بستیوں میں رہتے ہیں جہاں اکثر توڑ پھوڑ اور انہدام کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔
دہلی کے ستیہ نکیتن میں رہنے والے طلبہ اس علاقے کا انتخاب اپنی مرضی سے نہیں کرتے۔ ساؤتھ کیمپس کے آس پاس رہنے کے محفوظ اور سستے متبادل محدود ہیں اور ڈی یو کے ہاسٹل میں سیٹیں اتنی کم ہیں کہ زیادہ تر طلبہ نجی پی جی اور کرایہ کے فلیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ طلبہ کہتے ہیں کہ مسئلہ صرف پرانی یا غیر محفوظ عمارتوں کا ہی نہیں ہے، بلکہ پورے سسٹم کا ہے، جس میں طلبہ کے تحفظ اور ضرورت کو کاروباری مفادات سے کم ترجیح دی جاتی ہے۔
اسپین کے مؤقر اخباروں میں سے ایک ایل مندو نے ہندوستان کے سینئر صحافی سدھارتھ وردراجن اور میکسیکو کی صحافی مارسیلا توراتی کو 24ویں ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈ کے لیے منتخب کیا ہے۔ جیوری نے وردراجن کو پریس فریڈم کے زمرے میں اورتوراتی کو شاندار صحافتی خدمات کے لیے منتخب کیا ہے۔ دونوں کو فروری 2027 میں ایوارڈ سے نوازا جائے گا ۔