Skip to content
منگل , 06 اکتوبر , 2026ء
  • ہمارے بارے میں
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • حقوق انسانی
  • ادبستان
  • گراؤنڈ رپورٹ
  • ویڈیو
  • Support The Wire
ٹرینڈنگ
آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ دہلی ایس آئی آر: 2025 کے انتخابات میں جس  پولنگ بوتھ پر تھے 729 ووٹر، وہاں ڈرافٹ لسٹ میں بچا صرف ایک نام ’میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طالبعلم کو اس ملک میں اور کیا جھیلنا باقی رہ گیا ہے؟‘ دی وائر کے سدھارتھ وردراجن اور میکسیکو کی صحافی مارسیلا توراتی کو ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈ ایس آئی آر: آدھار کے بانی نندن نیلے کنی اور ان کے اہل خانہ کے نام ڈسکریپنسی لسٹ میں کشمیر: آئینی تغیرات، جمہوری تعطل اور پسپائی کی داستان

تازہ ترین

  • آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا
  • برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں
  • بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ
  • رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے
  • برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ
  • فیس بک
  • ٹوئٹر
  • یو ٹیوب
  • انسٹاگرام

دو سال کی تاخیر کے بعد پی ایم کیئر نے بتایا – 31 مارچ 2025 تک اس کے پاس 8,452 کروڑ روپے تھے

شیئر کریں اروند گنا شیکھر 19/08/202621/08/2026

پی ایم کیئر فنڈ سے 31 مارچ 2025 کو ختم ہوئے مالی سال کے دوران 87 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ 31 مارچ 2025 تک اس فنڈ کے اکاؤنٹس میں 8,452 کروڑ روپے تھے۔ پی ایم کیئر فنڈ کا قیام مارچ 2020 میں کووڈ-19 وبا کے پھیلاؤ کے دوران ہنگامی حالات اور آفات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا تھا۔ فنڈ کی آڈٹ رپورٹس عوامی طور پر دستیاب نہ ہونے پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔

(فوٹوبہ شکریہ: www.pmcares.gov.in)

نئی دہلی: پی ایم کیئر فنڈ نے دو سال کی تاخیر کے بعد اپنی ویب سائٹ پر مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کے آڈٹ کیے گئے مالیاتی گوشوارے اپلوڈ کیے ہیں۔ یہ دستاویز 17 اگست کو ویب سائٹ پر ڈالے گئے۔

اکاؤنٹس کا آڈٹ 6 اگست کو مکمل ہوا اور آڈیٹرز نے 7 اگست کو ان پر دستخط کیے۔

مالی سال 2024-25 کے گوشواروں کے مطابق، پی ایم کیئر فنڈ کو عطیات اور جمع رقم پر حاصل ہونے والے سود کے ذریعے 1,200 کروڑ روپے سے زیادہ موصول ہوئے۔

بتادیں کہ 31 مارچ 2025 کو ختم ہوئے مالی سال کے دوران فنڈ سے 87 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ 31 مارچ 2025 تک پی ایم کیئر فنڈ کے اکاؤنٹس میں 8,452 کروڑ روپے تھے۔

پی ایم کیئر فنڈ کا قیام مارچ 2020 میں کووڈ-19 وبا کے پھیلاؤ کے دوران ہنگامی حالات اور آفات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا تھا۔ پہلے تین سالوں میں اس فنڈ میں تقریباً 13,000 کروڑ روپے جمع ہوئے تھے۔ ان میں سے تقریباً 3,000 کروڑ روپے صرف پہلے ہفتے میں جمع کیے گئے تھے۔

جب فنڈ کے لیے رقم جمع کی جا رہی تھی تو حکومت نے کہا تھا کہ پی ایم کیئر فنڈ کو کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت ملنے والی رقم قبول کرنے کی اجازت ہے، کیونکہ اسے مرکزی حکومت نے قائم کیا تھا۔ وزراء نے سرکاری ملازمین اور افسران سے اپنی تنخواہ عطیہ کرنے کی ’اپیل‘ بھی کی تھی۔

لیکن جب لوگوں نے فنڈ سے متعلق معلومات طلب کرنا شروع کیں تو حکومت نے دعویٰ کیا کہ پی ایم کیئرز ٹرسٹ کوئی پبلک اتھارٹی نہیں ہے، اس لیے وہ آر ٹی آئی قانون کے تحت جوابدہ نہیں ہے۔

حال ہی میں وزیر اعظم کے دفتر(پی ایم او) نے لوک سبھا سکریٹریٹ کو بتایا کہ پی ایم کیئر فنڈ سے متعلق سوال اور پارلیامنٹ میں کی جانے والی دیگر مداخلتیں لوک سبھا کے طریق کار اور کاروبار چلانے کے قواعد کے تحت قابل قبول نہیں ہیں۔ فنڈ کی آڈٹ رپورٹس عوامی طور پر دستیاب نہ ہونے پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔

شفافیت کے لیے کام کرنے والی کارکن انجلی بھاردواج سمیت کئی افراد نے عدالتوں اور انفارمیشن کمیشنوں کے ذریعے پی ایم کیئرز فنڈ سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔کمیشنوں نے ماضی میں کہا ہے کہ ’شفافیت کی یہ کمی الیکٹورل بانڈز کے معاملے پر اٹھنے والے خدشات جیسی ہے، جہاں عطیہ دہندگان کی شناخت خفیہ رکھے جانے سے عوامی جوابدہی محدود ہو گئی تھی۔‘

انہوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ جب بڑے پیمانے پر دیے گئے عطیات کو عوامی جانچ پڑتال سے باہر رکھا جاتا ہے تو اس سے لین دین کے بدلے فائدہ، یعنی ’کوئڈ پرو کو‘کے ذریعے بدعنوانی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

ایسی غیر شفافیت اس نظام کو اسی طرح کے غلط استعمال کے لیے حساس بنا سکتی ہے جیسا کہ الیکٹورل بانڈز کے تنازعہ میں سامنے آیا تھا—مثلاً لین دین کے عوض سودے، قواعد کی پابندی میں نرمی اور جبری وصولی ۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔)

مزید پڑھیں

آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی…
بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے…
رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ…
Load/Hide Comments

تازہ ترین

  • آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا
  • برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں
  • بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ
  • رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے
  • برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ
  • فیس بک
  • ٹوئٹر
  • یو ٹیوب
  • انسٹاگرام
  • ہمارے بارے میں

Copyright © 2026, The Wire Urdu