Skip to content
جمعه , 18  ستمبر , 2026ء
  • ہمارے بارے میں
  • خبریں
  • فکر و نظر
  • حقوق انسانی
  • ادبستان
  • گراؤنڈ رپورٹ
  • ویڈیو
  • Support The Wire
ٹرینڈنگ
آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ دہلی ایس آئی آر: 2025 کے انتخابات میں جس  پولنگ بوتھ پر تھے 729 ووٹر، وہاں ڈرافٹ لسٹ میں بچا صرف ایک نام ’میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طالبعلم کو اس ملک میں اور کیا جھیلنا باقی رہ گیا ہے؟‘ دی وائر کے سدھارتھ وردراجن اور میکسیکو کی صحافی مارسیلا توراتی کو ایل مندو انٹرنیشنل جرنلزم ایوارڈ ایس آئی آر: آدھار کے بانی نندن نیلے کنی اور ان کے اہل خانہ کے نام ڈسکریپنسی لسٹ میں کشمیر: آئینی تغیرات، جمہوری تعطل اور پسپائی کی داستان

تازہ ترین

  • آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا
  • برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں
  • بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ
  • رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے
  • برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ
  • فیس بک
  • ٹوئٹر
  • یو ٹیوب
  • انسٹاگرام

’کاکروچ جنتا پارٹی‘ پر آر ایس ایس کے ماؤتھ پیس کا حملہ، کہا – بائیں بازو کے رجحان والے سیاسی ایکو سسٹم کا حصہ

شیئر کریں دی وائر اسٹاف 26/05/202627/05/2026

ایک مضمون میں آر ایس ایس کے ماؤتھ پیس نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو ’سیاسی طور پر اسپانسرڈ مہم‘ قرار دیا ہے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ مبینہ طور پر بائیں بازو کے رجحان رکھنے والے نیٹ ورک یا نظریے سے وابستہ ایک وسیع تر نظام کا حصہ ہے، جو سیاسی ڈسکورس کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اردگرد چلنے والی طنزیہ سیاسی تحریک کو محض نوجوانوں کے احتجاج کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک ’سیاسی طور پر تیار کی گئی مہم‘ قرار دیا ہے۔

اپنےماؤتھ پیس ’آرگنائزر‘ کے اداریے میں آر ایس ایس نے کہا کہ سی جے پی کا یہ واقعہ ’فریبی کلچر پر مبنی، بائیں بازو کے رجحان والے سیاسی ایکو سسٹم‘ کا حصہ ہے۔

’آرگنائزر‘ کے اداریے کا عنوان تھا؛ ’ کاکروچ سنڈروم: دی نیو فیس آف اینٹی انڈیا ٹیک سنیسزم ‘۔ اس میں سی جے پی کے پانچ مقاصد کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں انتخابی افسران کے خلاف انسداد دہشت گردی قوانین لگانے اور پارٹی بدلنے والے سیاست دانوں پر پابندی عائد کرنے جیسے مطالبات شامل ہیں۔ اداریے نے انہیں ’ادارہ جاتی زوال کا خوفناک خاکہ، جسے نوجوانوں کی ڈیجیٹل بغاوت کی شکل دی گئی ہے‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

اداریے میں کہا گیا، ’کابینہ میں خواتین کے لیے من مانے طریقے سے 50 فیصد لازمی ریزرویشن کا مطالبہ کرنا، جبکہ پارلیامانی طاقت، انتخابی مینڈیٹ اور اہلیت پر مبنی حقائق کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے، آئینی طرز حکمرانی کے بارے میں شدید لاعلمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا کھوکھلا نعرہ ہے، نہ کہ 1.4 ارب آبادی والے پیچیدہ ملک کو چلانے کی کوئی سنجیدہ پالیسی۔‘

اداریے میں اڈانی گروپ اور ریلائنس گروپ کی ملکیت والے میڈیا اداروں کے لائسنس منسوخ کرنے کے مطالبے کو ’کتابی، اسٹالن نواز کمیونسٹ سنسرشپ‘ اور ’ملکی سرمایہ کے خلاف بدنیتی پر مبنی، ہدفی حملہ‘ قرار دیا گیا۔

’آرگنائزر‘ نے اپنے وسیع تر موقف کی حمایت میں چانکیہ کی قدیم سفارت کاری کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ جب کسی ملک کے نوجوانوں کو ’پیداواری محنت کے بجائے مصنوعی طور پر پیدا کی گئی مایوسی کی طرف جان بوجھ کر دھکیلا جاتا ہے‘ تو قوم کمزور ہو جاتی ہے۔

اسی تناظر میں اس نے سی جے پی کو حقیقی مایوسی کے اظہار کا ذریعہ (پریشر والو) ماننے کے بجائے قومی خود اعتمادی پر ایک منظم حملہ قرار دیا۔

مضمون میں کہا گیا کہ سی جے پی کا بانی ’امریکی نوجوانوں کی تکنیکی بحثوں کی زور و شور سے تعریف کرتا ہے‘، جبکہ وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ مغربی تکنیکی دبدبہ بڑی کارپوریٹ کمپنیوں پر قائم ہے – بالکل انہی کمپنیوں پر جنہیں سی جے پی ختم کرنا چاہتی ہے۔

’آرگنائزر‘ نے دلیل دی کہ آپ ایک طرف سیمی کنڈکٹر انقلاب کا مطالبہ نہیں کر سکتے اور دوسری طرف انہی بڑے صنعتی گروہوں کو ختم کرنے کی بات بھی نہیں کر سکتے جو ایسے انقلاب کو مالی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مضمون میں کہا گیا، ’ہندوستانی جین-زی کو ان عالمی تکنیکی دھاروں سے کٹا ہوا ظاہر کرنے کا جھوٹا بیانیہ بنا کر، سی جے پی بنانے والوں نے اپنی ہی تخلیق کردہ المیے کی اسکرپٹ لکھنے کی کوشش کی ہے۔‘

آر ایس ایس کے ترجمان کا نتیجہ واضح تھا؛ اس کے مطابق اس تحریک کا اصل مقصد اس نسل میں ’بھیک مانگنے والی وسیع اور ناگزیر ذہنیت‘ پیدا کرنا ہے، جو ان کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ امکانات رکھنے والی معیشتوں میں سے ایک کی وارث ہے۔

ہندوستان کی سب سے زیادہ زیر بحث ڈیجیٹل احتجاجی تحریکوں میں شامل سی جے پی کی شروعات اس وقت ہوئی، جب ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے مبینہ طور پر ایک سماعت کے دوران بے روزگار ہندوستانی نوجوانوں کو ’کاکروچ‘ اور ’پیراسائٹ‘ کہا تھا۔

چند ہی دنوں میں بوسٹن یونیورسٹی کے طالبعلم ابھیجیت دیپکے نے اس تبصرے کو سی جے پی کے طنزیہ بینر میں تبدیل کر دیا۔ یہ پارٹی جلد ہی بے روزگاری، بدعنوانی اور ہندوستان میں جمہوریت کی حالت پر نوجوانوں کے غصے کے اظہار کا ذریعہ بن گئی، اور ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اس کے آن لائن حامیوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔

حکومت کا ردعمل بھی تیز ریا، اور آغاز کے چند ہی دنوں کے اندر ہندوستان میں ایکس پر سی جے پی کا اکاؤنٹ بند کردیا گیا۔ دیپکے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک کر لیے گئے تھے اور تحریک کی ویب سائٹ بھی بند کر دی گئی ۔

مزید پڑھیں

آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی…
بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے…
رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ…
Load/Hide Comments

تازہ ترین

  • آسٹریلیا کے سات سابق کرکٹ کپتانوں نے انسانیت کی بنیاد پر عمران خان کی حراست پر تشویش کا اظہار کیا
  • برکس سربراہی اجلاس: تضادات اور تزویراتی حقیقتیں
  • بنگال: السلام علیکم اور انشاء اللہ کہنے پر ہندو لیگل فنڈ کی شکایت کے بعد پولیس افسر کا تبادلہ
  • رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے
  • برکس سربراہی اجلاس: شی جن پنگ کے دورہ کے خلاف دہلی میں تبتی کمیونٹی کا احتجاجی مظاہرہ
  • فیس بک
  • ٹوئٹر
  • یو ٹیوب
  • انسٹاگرام
  • ہمارے بارے میں

Copyright © 2026, The Wire Urdu