ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ میں ہندوستانی ٹیم نے تاریخ رقم کی، شاندار جیت

اکثر طنز، طعنوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنے والی ہندوستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم نے نوی ممبئی کے کھچا کھچ بھرےڈی وائی پاٹل کرکٹ اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ کو 52 رنوں سے شکست دے کر کرکٹ ورلڈ کپ کاخطاب پہلی بار اپنے نام کیا۔

نئی دہلی: کل شام ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑیوں نے وہ کر دکھایا جو طویل عرصے سے محض خواب لگتا تھا۔ انہوں نے اس کھیل میں سب سے بڑا خطاب جیتا جس سے یہ ملک سب سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ اکثر طنز، طعنوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنے والی ان کھلاڑیوں نے اپنی محنت اور جذبے سے کرکٹ ورلڈ کپ کا خطاب پہلی بار اپنے نام کیا۔ یہ فتح ہر کھلاڑی کے سفر، جدوجہد اور حوصلے کی کہانی بیان کرتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب خوشی منانے کے مواقع بہت کم ہیں، ان ‘ڈریم الیون’ نے پوری قوم کو فخر اور اتحاد کا ایک قیمتی لمحہ دیا ہے۔
نوی ممبئی کے ڈی وائی پاٹل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہندوستانی کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کو 52 رنوں سے شکست دے کر خطاب پر قبضہ کر لیا۔ ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ہندوستان نے 50 اوور میں 7 وکٹ پر 298 رن بنائے۔ سلامی بلے باز شیفالی ورما نے 78 گیندوں پر 87 رن بنائے جبکہ آل راؤنڈر دیپتی شرما نے 58 رن بنائے۔
جواب میں کپتان لورا ولوارڈ کی سنچری کے باوجود افریقی ٹیم 246 رن پر آل آؤٹ ہوگئی۔دیپتی شرما نے پانچ اور شیفالی ورما نے دو وکٹ حاصل کیں۔
شیفالی ورما کو میچ میں ان کی آل راؤنڈ کارکردگی پر ‘پلیئر آف دی میچ’ کے خطاب سے نوازا گیا۔
غور طلب ہے کہ ہریانہ سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ شیفالی ورما نے سیمی فائنل میچ سے پہلے ٹیم میں شمولیت اختیار کی تھی جب اوپننگ بلے باز پرتیکا راول چوٹ کی وجہ سے ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی تھیں۔ وہ ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ میں شامل نہیں تھیں، اور وہ اسٹینڈ بائی لسٹ میں بھی نہیں تھیں۔
اس دوران دیپتی شرما کو پورے ٹورنامنٹ میں آل راؤنڈ کارکردگی کے لیے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ شرما نے سب سے زیادہ 22 وکٹیں حاصل کیں اور کارآمد 215 رنزبنائے جس میں تین نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔

اس سے قبل ہندوستانی ٹیم دو مرتبہ (2005 اور 2017) ون ڈے ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی تھی لیکن ٹائٹل جیتنے سے محروم رہی۔
آئیے اس تاریخی فتح اور جشن کے لمحات کو تصاویر میں دیکھتے ہیں؛





